was offered, but I'm not involved, a sty of a wing beat, match fixing in Pakistan cricket and the PCB is responsible for error, Mohammad Khan and Mohammad Asif would have met the wrong people, worthy captain Shoaib Malik were not, Imran Khan, Pakistan team's captain, Wasim Akram has destroyed careers, career began when two groups were present in the team, the team still has a strong lobby, the World Cup matches to drop in It was Depressed, discipline problems but the team has only hit me, Shah Rukh Khan and Lalit Modi, the issue of money cheat on them can be trusted.
tmprng the hair should be allowed every bowler in the world in the hair so the hair does tmprng tmprng. She said I was offered several times a match-fixing, but I'm not involved but in the outer wing sty During visits to the country beat. Shoaib Akhtar and Pakistan Cricket Match Fixing the problem is solely responsible PCB, PCB Pakistan Cricket fall victim to poor policies. He suffered a match-fixing painful event, but it is important to know the root causes, Mohammad Khan and Mohammad Asif during visits abroad, met with the wrong people and had connections with them.
Shoaib Akhtar, Nasim Ashraf, Pakistan cricket tour was a dark chapter in which the damage to Pakistan cricket, Shoaib Malik, Captain, but not appropriate at the behest of lobbying by Nasim Ashraf, has made him captain. He Pakistan's Imran Khan as captain is strictly merit jratmndanh decision and will also ensure, in my life seen a great captain. khnatha them that their careers destroyed by Wasim AkramAkram's most feared my arrival and the board were saying that if Shoaib Akhtar was on the team then I will be dropped.
The whole team, but I only had a problem and was targeted in the name of discipline, I definitely made mistakes, but mistakes were bigger mistake.
He had a very hard time and seen poverty, up from the village came to town and change the situation along the four brothers, nineteen hundred ninety mbtlaء the knee was in pain, the doctor able to play cricket with appreciation the efforts of to see what my body was not ready to accept any cricketer, but I represent the national team and I got my dream interpretation. He was aggressive right from my early days and for an aggressive fast bowler Mirage and behavior is essential. a question Sachin Tendulkar and Rahul Dravid said he must have good batsmen, Tendulkar, Rahul Dravid is a better player, but not both match Honor. Shoaib Akhtar, Saqlain Mushtaq, former off-spinner as a great cricketer I cheated on both of them can never be trusted.



نئی دہلی ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے بال ٹمپرنگ کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دو مرتبہ بال ٹمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے مگر اس کے باوجود گیند کو خراب کرنے سے باز نہیں آئے، کئی مرتبہ میچ فکسنگ کی پیشکش ہوئی لیکن اس میں کبھی ملوث نہیں رہا، کچھ سٹے بازوں کی پٹائی بھی کی، میچ فکسنگ اور پاکستانی کرکٹ میں خرابی کا ذمہ دار صرف پی سی بی ہے، محمد عامر اور محمد آصف غلط لوگوں سے ملتے تھے، شعیب ملک کپتانی کے لائق نہیں تھے، پاکستان ٹیم کو عمران خان جیسے کپتان کی ضرورت ہے، وسیم اکرم نے کیریئر کو تباہ کیا، کیریئر کا آغاز کیا تو ٹیم میں دو گروپ موجود تھے، ٹیم میں اب بھی مضبوط لابی موجود ہے، ورلڈکپ کے میچز میں ڈراپ کرنے کا بہت افسردہ تھا، ڈسپلن پوری ٹیم کا مسئلہ تھا لیکن صرف مجھے ہی نشانہ بنایا گیا، شاہ رخ خان اور للت مودی نے پیسوں کے معاملے پر دھوکہ کیا ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی ٹی وی آئی بی این سی این این کو خصوصی انٹرویو میں شعیب اختر نے برملا اعتراف کیا کہ وہ دو مرتبہ بال ٹمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے مگر اس کے باوجود گیند کو خراب کرنے سے باز نہیں آئے اور کیریئر کے دوران ٹمپرنگ کرتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ بال ٹمپرنگ کی اجازت ہونی چاہیے دنیا کا ہر باؤلر بال ٹمپرنگ کرتا ہے لہٰذا میں نے بھی بال ٹمپرنگ کی۔ انہوں نے کہاکہ مجھے کئی مرتبہ میچ فکسنگ کی پیشکش ہوئی لیکن اس میں کبھی ملوث نہیں رہا بلکہ کچھ سٹے بازوں کی میں نے بیرون ملک دوروں کے دوران پٹائی بھی کی۔ شعیب اختر نے کہاکہ میچ فکسنگ اور پاکستان کرکٹ میں خرابی کا ذمہ دار صرف پی سی بی ہے، پی سی بی کی ناقص پالیسیوں کے باعث پاکستانی کرکٹ زوال کا شکار ہے۔ انہوں نے کہاکہ میچ فکسنگ ایک تکلیف دہ واقعہ تھا لیکن اس کی بنیادی وجوہات کا جاننا ضروری ہے، محمد عامر اور محمد آصف بیرون ملک دوروں کے دوران غلط لوگوں کے ساتھ ملتے تھے اور ان کیساتھ مراسم تھے۔
شعیب اختر نے کہاکہ پاکستانی کرکٹ میں ڈاکٹر نسیم اشرف کا دورہ سیاہ باب تھا جس کے دوران پاکستانی کرکٹ کو بہت نقصان ہوا، شعیب ملک کپتانی کے لائق نہیں تھے لیکن لابنگ کے ذریعے نسیم اشرف کی ایماء پر انہیں کپتان بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو عمران خان جیسے کپتان کی ضرورت ہے جو سختی کے ساتھ میرٹ کو بھی یقینی بنائے اور جراتمندانہ فیصلے کرے، میں نے اپنی زندگی میں ان سے بڑا اور عظیم کپتان نہیں دیکھا۔ ان کا کہناتھا کہ وسیم اکرم نے ان کے کیریئر کو تباہ کیا جب ٹیم میں شامل کرنے کا وقت آیا تو انہوں نے میرے راستے میں روڑے اٹکائے اور بورڈ حکام کو دھمکی دی کہ اگر شعیب اختر کو ٹیم میں شامل کیا گیا تو وہ آدھی سے زیادہ ٹیم کو سکواڈ سے الگ کر لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وسیم اکرم کو میری آمد کا سب سے زیادہ خدشہ تھا اور وہ بورڈ کو یہ کہہ رہے تھے کہ اگر شعیب اختر ٹیم میں آ گیا تو مجھے ٹیم سے نکال دیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ جب میں نے کرکٹ کا آغاز کیا تو ٹیم میں دو گروپ موجود تھے جو ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے تھے جن کی کارکردگی پر بہت تبصرے بھی ہوئے لیکن کسی نے کارروائی نہیں کی لیکن میں نے اپنے دورے کے دوران کبھی لابنگ نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ ٹیم میں اب بھی مضبوط لابی موجود ہے جو اپنے پسند کے فیصلے کراتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شعیب اختر نے کہاکہ ورلڈکپ کے میچز کے دوران ڈراپ کرنے پر بہت افسردہ تھا بالخصوص سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں باہر بیٹھ کر قومی ٹیم کی شکست دیکھی نہیں جا رہی تھی لیکن ٹیم انتظامیہ کی ضد کے باعث میں ٹیم میں نہیں کھیل سکا جس کا ساری زندگی افسوس رہے گا، ٹیم سے نکالے جانے پر خاموشی اختیار کر لی تھی تاکہ کوئی تنازعہ جنم نہ لے۔ انہوں نے کہاکہ ڈسپلن پوری ٹیم کا مسئلہ تھا اور ہے لیکن صرف مجھے ہی ڈسپلن کے نام پر نشانہ بنایا گیا، میں نے غلطیاں ضرور کیں لیکن غلطیوں کی سزا غلطی سے بڑی دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ میں نے بہت مشکل وقت دیکھا اور غربت دیکھی، گاؤں سے اٹھ کر شہر میں آئے اور چار بھائیوں نے مل کر حالات تبدیل کئے، انیس سو نوے سے گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلاء تھا، ڈاکٹر توصیف کی کاوشوں سے کرکٹ کھیلنے کے قابل ہوا میرے جسم کو دیکھ کر کوئی بھی مجھے کرکٹر ماننے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن قومی ٹیم کی نمائندگی کر کے میں نے اپنے خواب کی تعبیر کر لی۔ انہوں نے کہاکہ میرا شروع دن سے ہی جارحانہ رویہ تھا اور ایک فاسٹ باؤلر کیلئے جارحانہ مراج اور رویہ ہونا ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سچن ٹنڈولکر اور راہول ڈریوڈ اچھے بلے باز ضرور ہیں، راہول ڈریوڈ ٹنڈولکر سے بہتر کھلاڑی ہیں لیکن دونوں میچ ونر نہیں۔ شعیب اختر نے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کو عظیم کرکٹر قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ ہمیشہ ان کی باؤلنگ سے متاثر ہوئے ان جیسا سپنر پاکستان کو کبھی نہیں ملا۔ شعیب اختر نے کہاکہ بالی ووڈ سٹار شاہ رخ خان اور آئی پی ایل کے معطل چیئرمین للت مودی نے آئی پی ایل میں شرکت کے موقع پر پیسوں کے معاملے میں ان سے دھوکہ کیا ان دونوں پر کبھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
These icons link to social bookmarking sites where readers can share and discover new web pages.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google
  • Furl
  • Reddit
  • Spurl
  • StumbleUpon
  • Technorati

Leave a comment

Paste Your Comment here without registration
thanx